Saturday , January 23 2021
Breaking News
Home / Uncategorized / سال کا تحف

سال کا تحف

جوں جوں آپ وہ کرنے لگیں گے جو کہ ٹھیک ہے آپ آہستہ آہستہ لوگ کیا سوچتے ہیں کی فکر سے آزاد ہو جائیں گے۔ پھر آپکو بھی آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگے گی کہ اگر
ہم نے ہی یہ بھی سوچنا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے تو پھر لوگ کیا کریں گے

“ہائے اس نے میرے بار ےمیں ایسا سوچا”
“ہیں وہ میرے بارے میں ایسا کہتی ہے
ایسے بہت سے جملے ہم لوگ بولتے رہتے ہیں خاص طور پر تب جب ہمیں پتہ لگتا ہے کہ فلاں فلاں ہمارے بارے میں نہ جانے کیا کیا بولے جا رہا ہے۔ کچھ حقیقت بھی ہے کچھ فسانہ بھی۔
جتنے منہ اُتنی باتیں اسی وجہ سے کہا جاتا ہے اور ہم کس کس کا منہ پکڑیں اور کس کس کی زبان جکڑیں کہ ہمارے بارے میں ایسا یا ویسا اس نے کہنے کی جرات کیسے کی۔ہمیں خاص طور پر خواتین کو اگر پتہ لگتا ہے کہ فلاں رشتے دار نے ہمارے بار ے میں یہ بات کہی ہے اور اگر وہ بات سچی بھی نہ ہو اور ہماری سوچ اور عمل کے مطابق تو بالکل ہی نہ ہو تب ہمیں دُکھ اور پریشانی مزید ذیادہ ہوتی ہے۔
ہم سب سے پہلے سمجھ لیں کہ ہمارا دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ ہم سب نے اپنا بچپن گزارا ہوتا ہے خواہ ہم سب بہن بھائی ایک ہی گھر ایک ہی جگہ پلے بڑھے ہوں تب بھی ایک کے دوسرے سے تجربات احساسات خیالات اور حالات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایک تھالی میں کھانے والوں کا دماغ بھی مختلف خیالات سوچ نظریات کے ساتھ بڑھتا ہے۔ پھر جوں جوں ہم بڑے ہوتے ہیں اور زندگی ہمیں اپنے راستے پر مختلف آزمائشیں اور آسائشیں عطا کرتی ہے۔
ان سب چیزوں سے مل کر جو ہمارا دماغ بنتا ہے وہ ایک کا دوسرے سے بالکل مختلف بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کالا رنگ پسند ہو سکتا ہے اور کسی دوسرے کو وہ رنگ شدید نا پسند ہو سکتا ہے ۔ان سب باتوں کی وجہ سے ہم کسی ایک انسان کو ایک بات بتاتے ہیں یا کسی ایک خاص انداز میں رویہ رکھتے ہیں تو سامنے والا اسکو ضروری نہیں آپکی سوچ کے مطابق ہی سُنے یا آپکی نظر سے ہی دیکھے۔
مثال کے طور پر ایک انسان تعریف کرنے والا ہو سکتا ہے مگر سامنے والے کو یہ چاپلوسی لگے اسی طرح ایک انسان بہت مہمان نواز ہو سکتا ہے مگر سامنے والے کو وہ فضول خرچ لگے۔
ہم انسان واقعات کے تناظر میں سوچتے ہیں اگر ہمیں ایک آنٹی نے سلام کا جواب بہت اچھے سے دیا ہے تو ہم اگلی دفعہ انکو سلام کرتے ہوئے مزید گرم جوش ہو جاتے ہیں مگر اگر ان آنٹی نے سلام کا جواب گرم جوشی سے نہیں دیا تو عین ممکن ہے کہ ہم اگلی دفعہ انکو سلام کریں ہی نہ کیوںکہ سلام کرنے سے پہلے ہمارا دماغ ہمیں یاد دلوائے گا کہ انھوں نے ہمیں اچھے سے جواب نہیں دیا سو چھوڑو انہیں۔
سو ہم واقعات کے تناظر میں سوچتے ہیں ۔ پھر انسان کے دماغ میں یہ خاصیت بھی ہے کہ وہ کچھ واقعات کو بہت ذیادہ شدت سے یاد رکھتا ہے اور کچھ کو بھول جاتا ہے ۔ سو ہو سکتا ہے کہ آپکے بارے میں کوئی یہ بات یاد رکھے کہ آپ نے دو دفعہ بریانی اچھی نہیں بنائی تھی مگر آپ نے جو چار دفعہ اچھی بنائی تھی یہ بات وہ بھول جائے اور ذیادہ زور اور آپکا نام اپنے دماغ میں لاتے ہوئے اسکو یہ ہی یاد رہے کہ نہیں جی آپ نے بریانی اچھی نہیں بنائی تھی۔
سو کریں کیا
ایک بات یاد رکھیں سوچ کو بدلنا مشکل ترین کام ہے۔ اپنے اوپر ہی تجربہ کرلیں اور جس سیاسی پارٹی سے نفرت ہو اسکے بارے میں اچھا سوچنے کی کوشش کریں ۔ یہ پڑھ کر ہی آپکے نتھنے پھول گئے ہیں ۔ سو اس سے اندازہ لگائیں کہ عملی طور پر سوچ بدلنا کتنا مشکل ہو گا ۔
سو کوئی ہمارے بارے میں کیا سوچ رہا ہے وہ ہمارے اعمال کو اپنے کس تجربے کی روشنی میں کس طرح سوچ رہا ہے یہ ہمارے لئے مکمل ناممکن ہے کہ ہم اسکو بدلیں۔ سو اس بات پر پریشان ہونا چھوڑ دیں کہ کوئی ہمارے بارے میں ایسا کیوں سوچ رہا ہے اور اسکو ایسا سوچنے سے باز رکھنا ہے ۔
دوسرا یہ کہ کوشش کریں کہ کام اچھے کریں جو کام ہمارے مزہب کے مطابق بھی اور معاشرے کے مطابق بھی اچھے اور صحیح ہوں۔ کیونکہ اگر آپ پانچ وقت نماز پڑھ کر جھوٹ لگاتار بولیں تو نمازی کے ساتھ جھوٹا مشہور ہونے کا بھی امکان ہے سو اس بات کا خیال رکھیں کہ اعمال بھی درست کریں
مزے کی بات یہ ہے آپ اپنے اعمال کتنے ہی درست کرلیں اور کتنی ہی اچھی نیت کے ساتھ کرلیں اسکے باوجود بھی لوگ آپکے بارے میں منفی ضرور سوچیں گے اور ویسا ضرور سوچیں گے جیسے آپ نہیں ہیں۔
مگر جوں جوں آپ وہ کرنے لگیں گے جو کہ ٹھیک ہے آپ آہستہ آہستہ لوگ کیا سوچتے ہیں کی فکر سے آزاد ہو جائیں گے۔ پھر آپکو بھی آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگے گی کہ اگر
ہم نے ہی یہ بھی سوچنا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے تو پھر لوگ کیا کریں گ

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *